13 مئی 2012 - 19:30

آج خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے سربراہان سعودی دارالحکومت ریاض میں اکٹھے ہورہے ہیں اور وہ بظاہر تعاون کونسل کو اتحاد اور کنفیڈریشن میں تبدیل کی سعودی تجویز پر غور کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ عرب ریاستوں سے منظوری لی جارہی ہے کہ بحرین کو سعودی عرب کے حوالے کیا جائے

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آج آل سعود کے دارالحکومت ریاض میں خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے مطلق العنان حکمرانوں کا اجلاس بظاہرخلیج فارس تعاون کونسل کو اتحاد میں تبدیل کرنے کی سعودی تجویز پر بحث کرنے کی غرض سے، ہورہا ہے جبکہ کہا جاتا ہے کہ یہ اجلاس بحرین کو آل سعود کے حوالے کرنے کی نیت سے منعقد ہورہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آل سعود اور آل خلیفہ کی یہ سازش اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ یہ دو خاندان اور خلیج فارس تعاون کونسل کی رکن ریاستوں کی تمامتر کوششیں ناکام اور بحرینیوں کی انقلابی تحریک کامیاب ہوچکی ہے اور آل خلیفہ اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے مزید ذلت کو طوق گردن بنا کر اس بار بادشاہی خاندان کی بجائے آل سعود کی طرف سے والی بحرین بننے کے لئے بھی تیار ہے۔  وہ اتحاد کے نام پر بحرین کا سعودی عرب سے الحاق چاہتے ہيں لیکن انہیں اس سلسلے میں عرب ریاستوںکی منظوری بھی چاہئے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ آج سعودی عرب سے بحرین کے الحاق سے اتفاق کرلیں گے اور آل سعود و اور آل خلیفہ کوبھی یہی توقع ہے لیکن کچھ حقائق ایسے بھی ہیں جنہیں نظر انداز کرنا، حماقت ہے۔بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ خلیج فارس کی ریاستوں کو اپنی پڑی ہے اور وہ حتی اتحاد کی سعودی تجویز تک کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں چہ جائےکہ وہ سعودی عرب سے بحرین کے باقاعدہ الحاق کی تجویز سے اتفاق کرلیں جبکہ قطر جیسی حکومتوں کے ہاں آل سعود کی حکومت کا دور گذر چکا ہے اور وہ پرائے زمانے میں جی رہے ہیں چنانچہ ان کی اس طرح کی کوئی بھی تجویز قابل قبول نہیں ہے۔به گزارش خبرگزاری اهل‏بیت(ع) ـ ابنا ـ در حالی که امروز نشست سرنوشت‏سازی درباره توطئه خطرناک دریں اثناء بحرین کی سب سے بڑی سیاسی جماعت جمعیۃ الوفاق الاسلامی الوطنی کے سربراہ شیخ علی سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ فیڈریشن یا حتی کنفیڈریشن کی تشکیل کا مطلب سعود عرب کے ساتھ بحرین کے الحاق ہی ہے اور ہم اس منصوبے کے سخت خلاف ہیں اور آل خلیفہ سے ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ وہ عوامی مطالبات کی طرف توجہ دے؛ آل خلیفہ حکومت عوامی مطالبے کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کرکے در حقیقت قوم کو تشدد کی راہ پر ڈال رہی ہے؛ یہ پالیسی احمقانہ ہے اور حکومت آل خۂیفہ تمام جرائم کی ذمہ دار ہے۔ انھوں نے کہا: پارلیمنٹ کے انتخابات عوام کی شرکت کے بغیر منعقد ہوئے اور11 فیصد بیرونی شہریوں نے موجودہ پارلیمان کو منتخب کیا ہے چنانچہ نہ صرف مطلق العنان خلیفی حکومت بلکہ پارلیمانی نمائندوں تک کو بحرین کے بارے میں کوئی فیصلہ دینے کا حق حاصل نہیں ہے اور حکومت اور پارلیمان کا کوئی بھی اقدام غیر قانونی ہے۔مبصرین کا خیال ہے کہ آل خلیفہ حکومت عملا ختم ہوچکی ہے چنانچہ اب آل خلیفہ کے بادشاہ بادشاہت کی جگہ بحرین کے گورنر کی حد تک تنزل اختیار کرنے کے لئے بھی تیار ہے اور آل سعود کے ساتھ الحاق کا فیصلہ درحقیقت آل خلیفہ خاندان نیز اس کے سعودی حامیوں کی شکست اور بحرین کے مظلوم عوام کے انقلاب کے لئے بہت بڑی کامیابی ہے۔ بہرحال اب آل سعود ایک ملک کی سرپرستی سنبھالنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ وہ خود بھی امریکہ اور یہودی ریاست کے زير سرپرستی حکومت کررہے ہیں۔بہرحال آج خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے سربراہان سعودی دارالحکومت ریاض میں اکٹھے ہورہے ہیں اور وہ بظاہر تعاون کونسل کو اتحاد اور کنفیڈریشن میں تبدیل کی سعودی تجویز پر غور کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ عرب ریاستوں سے منظوری لی جارہی ہے کہ بحرین کو سعودی عرب کے حوالے کیا جائے گوکہ ایسا ہونے کی صورت میں دوسری عرب ریاستوں کو بھی اسی طرح کے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور کہا جارہا ہے کہ بحرین کا الحاق اس قصے کا آغاز ہے جس کا اختتام تمام ریاستوں کو ہڑپ کرنے پر ہی ہوگا چنانچہ انہیں شدید خدشات لاحق ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110